Wednesday, October 21, 2009

Iqbal & Sufism حکیم مشرق علامہ اقبال کا تصوّف

حکیم مشرق علامہ اقبال کا تصوّف - علامہ غلام جیلانی برق کی نظر میں
حصّہ دوم

وجدان؛
انسانی حواس صرف پانچ نہیں بلکہ ان کے علاوہ بھی ایک حس موجود ہے جس سے کوہستان کی بلند و پست چوٹیوں اور تاروں کی بکھری ہوئی محفل میں رشتہ وحدت نظر آتا ہے اور کائنات میں ایک روح ، ایک قوّت ناظمہ اور مشیت قاہرہ کا احساس ہوتا ہے - اس حس کا نام ہے وجدان اور وجدان کو چمکانے کا نام تصوّف ہے جسے خدا شناسی بھی کہتے ہیں ؛

خودی مے گم ہے خدائی تلاش کر غافل
خدا کرے تجھے تیرے مقام سے آگاہ


تصوّف کوئی فلسفیانہ نظریہ حیات نہیں بلکہ نظام حیات ہے جس سے کائنات کے متعلق تصور ہی بدل جاتا ہے -
قرآن کائنات کو بیکار نہیں سمجھتا بلکہ بار بار مشاہدہ موجودات کی ہدایت کرتا ہے اور پھر مرئی حقائق سے اک غیر مرئی عالم کی طرف لے جاتا ہے -

الله ایک چراغ ہے جو کائنات میں جل رہا ہے اور اس کا تصور وہ قمقمہ ہے جو سینہ انسان میں فروزاں ہے - یہ دیا بوجھ جائے تو قلب و نظر پہ تاریکیاں مسلط ہو جاتی ہیں اور اس تاریک ماحول میں حیات بھٹکنے لگتی ہے اور بارے بارے حادثوں سے دو چار ہوتی ہے - میرے نقطۂ نگاہ سے سب سے بڑا حادثہ الله سے کٹ جانا ہے -

...
محبوببیت

سرور عالم حضورپر نور صلے الله علیھ و سلّم ہر نماز کے بعد عموماً یہ دعا مانگا کرتے تھے ، ترجمہ؛ "اے رب ! لوگوں کو میرا اور مجھے لوگوں کا محبوب بنا"

محبوبیت کا یہ مقام بڑا عظیم ہے جسے حاصل کرنے کے لئے بڑی کٹھن راہوں سے گزرنا پڑتا ہے - اور عام مشاہدہ یہ ہے کہ عبادت اور طاعت کا بھی اس مے بڑا دخل ہے - جنید و با یزید ، اویس و سلیمان ، اور دیگر ہزارہا اہل دل اس منزل تک اسی راہ سے پہنچے تھے - شوھرت اور محبوببیت میں زمین آسمان کا فرق ہے ، بے شک چنگیز و ہلاکو، ہٹلر اور نپولیون عالمگیر شوھرت کے مالک تھے لیکن وہ کسی ایل دل میں بھی اپنا مقام نہ بنا سکے اور دوسری طرف حسین و حیدر ، فاروق و صدیق اور رومی و غزالی کا نام سنتے ہی کروڑوں مسلمانان عالم کی گردنیں تعظیماً جھک جاتی ہیں -

جسم لطیف
جسم لطیف کے بارے میں ایک نہایت حیرت انگیز انکشاف یہ ہوا کہ ہر گناہ بیماری یا دکھ بن کر جسم لطیف سے لپٹ جاتا ہے اور وہاں سے یہ بیماری جسم خاکو میں منتقل ہوتی ہے ...
جب کوئی مریض حضرت مسیح علیھ السلام کے پاس جاتا تو پہلا سوال یہ ہوتا "کیا تم میرے پیغام کو تسلیم کرتے ہو؟" اور علاج کرنے کہ بعد آئندہ کیلئے پہیز بتاتے "جاؤ اور آئندہ کیلئے گناہ مت کرو! "

ایک سوال
ہم مغربی پاکستان کی کسی بستی میں چلے جاہیں وہاں بلھے شاہ، فرید، باہو، (نیز رحمان بابا و لطیف وغیرہ ) کی کافیوں کا چرچا پائیں گے - اسی طرح مولانا رومی کی مثنوی ، جامی کی یوسف زلیخا اور سادی کی گلستان صدیوں سے پڑھی جا رہی ہیں اور دوسری طرف خود ہمارے عہد میں ایسے سینکڑوں شعرا
ء و ادباء جن کی تخلیقات سے ان کے ہمسائے تک نہ آشنا ہیں - انہیں نہ قبول عام حاصل ہے، نہ رنگ دوام - حالانکہ ان میں بعض کے کلام میں فصاحت و بلاغت کے تمام اوصاف پائے جاتے ہیں اور خیال میں بھی خاصی پرواز و ندرت ہے - بعض ایسے ادیب بھی ہیں جن کے نام سے تو سب آشنا ہیں لیکن ان کا کلام عظمت و احترام سے محروم ہے -
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس قبول عام و احترام کی کیا وجہ ہے؟ اس سوال کے کئی جواب ہو سکتے ہیں ، مثلاً ادیب کا اسلوب انوکھا تھا، شاعر کے خیالات میں پرواز تھی، موضوع کلام کا بلند تھا - و قس علی هذا - اسی سوال کا ایک جواب قرآن نے دیا ہے اور وہ یہ کہ
انّا نا شئیہ اللیل ھی اشد و طاء و ا قوم قیل... (مزمل)
اس آیت میں "ا قوم" کا لفظ تشریح چاہتا ہے - اس کا مادہ ق-و-م ہے جس سے مختلف مشتاقف تیار ہوئے - مثلا قیام ، تقوم ، اقامت ، قوام ، قیم ، قائم ، استقامہ ، وغیرہ ...ان کے مانے جدا جدا ہیں - لیکن ایک مفہوم ایسا ہے جو ان تمام میں مشترک ہے اور وہ ہے ثبات ، مضبوطی یا استحکام، تو ا قوم کے مانے ہوں گے، بہت مضبوط، پائدار، اور محکم اور آیت کا ترجمہ ہو گا
" تحقیق شب خیزی نفس کو کچلنے اور کلام کو محکم اور پائدار بنانے میں بہت ممد ہے -"

دعاۓ سحرگاہی کا نتیجہ کلام کا دوام و استحکام کیوں ہے ؟ عقل سمجھنے سے قا صر ہے لیکن انسان کا تجربہ اور مشاہدہ یہ ہے کہ ہمیشہ ایسا ہوتا رہا ہے اور غالبا سلطان باہو اور بابا بلّھے شاہ کی قبولیت کی وجہ بھی یہی تھی ، اقبال بھی اس راز سے اگاہ تھے، فرماتے ہیں ؛
عطار ہو، رومی ہو، رازی ہو، غزالی ہو،
کچھ ہاتھ نہیں آتا بے آہ سحر گاہی !

اورساتھ ہی علامہ اقبال سحر خیز بھی تھے - ٣١ اکتوبر ١٩١٦ کو اک خط میں جو مہاراجہ سر کشن سنگھ پرشاد کے نام تھا، لکھتے ہیں
"صبح چار بجے، کبھی تین بجے اٹھتا ہوں اس کے بعد نہیں سوتا، سواۓ اس کے کہ مصلّے پر اونگھ جاؤں " [اقبال نامہ ، حصّہ اول، ٤٤-٤٥ ]

اقبال نے الله سے کبھی دولت و حشمت نہیں مانگی ، بلکہ ہمیشہ شور مولانا رومی و صدق حکیم سنائی کی تمنا کی؛

عطا کن شور رومی ، سوز خرد
عطا کن صدق و اخلاص سنائی

اور بعض اشعار سے پتا چلتا ہے کہ انھے یہ دولت حاصل ہو گئی تھی؛
بیا بمجلس اقبال یک دو ساغر کش!
اگرچہ سر نتراشد قلندری داند !

یا

اگرچہ زادہ ہندم، فروغ چشم من است
ز خاک پاک بخارا و کابل و تبریز

اور اپنے کلام کے متعلق فرماتے ہیں؛
مسنج معنی من درعیار ہند و عجم
کہ اصل ایں گہر از گریہ ہاۓ نیم شب است




جاری ہے

9 comments:

Anonymous said...

Do say something about kasf also,
forms of kasf ............

dreams,visions,voices.
Worldly people may call them Schizophrenia!

But if guided rightly?

Rizwan said...

Bhai I have written about Kashf, or spiritual insight or unveiling before.

see:
http://cyclewalabanda.blogspot.com/search?q=kashf

and also:
http://cyclewalabanda.blogspot.com/2009/09/hazrat-ala-ud-daula-samnanis.html

and especially:
http://cyclewalabanda.blogspot.com/2008/03/faith-satanic-thought.html

&
http://cyclewalabanda.blogspot.com/2007/10/limits-to-science.html

all these posts address the issues you raise. Basically its not blind intuition, the Journey to God, to the inner worlds and the spiritual Realms is a well -worn one which thousands of Auliya have undertaken.
It is well-marked with signposts, and we have the searchlight of the Shaira.

rumiqbal said...

Very nice!

Anonymous said...

brother i cant read ur articles in urdu.in which font style r u writing them and from where can i download that font style?

Rizwan said...

Bhai go here: http://www.google.com/transliterate/indic/Urdu

click on this http://www.google.com/transliterate/indic/about_ur.html#fonts

and this
http://t13n.googlecode.com/svn/trunk/blet/docs/help_ur.html


download those fonts/software... and you can read and type in urdu on any website including your email.

Anonymous said...

brother i m using windows 98 and the urdu software only supports windows xp and 2000.isn't there any other way to read those urdu articles.what is the books name from which u r posting?is it maan ki duniya?

Digital Dervish said...

My urdu isn't that good, sorry. But where does Iqbal come into this, is the author, Gulam Jilani giving Iqbal's views here?

Rizwan said...

Anonymous bhai, yes Mun Ki Dunya has an excellent longer article called Iqbal aur Dil ki Dunya, altho this is from a shorter article based on the above called, Dil aur Aab o Gil ki Dunya.

These books are published by Sheikh Ghulam Ali & Sons Lahore. They're available in the Urdu Bazars of Lahore & Karachi & Rawalpindi.

Rizwan said...

Digital Dervish bhai, yes Barq sahib's tasavvuf is based on Allama Iqbal. The longer article which this is based on is in Mun ki Dunya & it's called Iqbal Aur Dil ki Dunya.

Since I'm new to this Urdu typing thing I thought I'd post this shorter article first and then work up it. Then there is another 2 articles on Iqbal and the Holy Prophet peace be upon him which I intend to post, inshallah. SO this series will run 7 parts, God-willing.

The conclusion here will make it clearer, but for a more explicit elaboration of Allama Iqbal's Sufism, please wait for Part 3 where I post Iqbal aur Dil ki DUnya, inshallah.