Sunday, January 9, 2011

Barq e Kalisa, repost

Read this prophetic poem- The Lightening of the Church- written in 1907 & I think you'll agree that Hazrat Akbar Alahabdi RA was no less than Hazrat Allama Iqbal.


مثنوی برق کلیسا --- اکبر الہآبادی

رات اس مس سے ہوا میں جو دو چار
ہاۓ وہ حسن وہ شوخی وہ نزاکت وہ ابھار

زلف پیچاں میں وہ سج دھج کہ بلایں بھی مرید
قد رعنا میں وہ چم خم کہ قیامت بھی شہید

آنکھیں وہ فتنہ دوران کہ گنہگار کریں
گال وہ صبح درخشاں کہ ملک پیار کریں

گرم تقریر جسے سننے کو شعلہ لپکے
دل کش آواز کہ سنکر جسے بلبل جھپکے

دلکشی چال میں ایسی کہ ستارے رک جایں
سرکشی ناز میں ایسی کہ گورنر جھک جایں

آتش حسن سے تقوے کو جلانے والی
بجلیاں لطف تبسّم سے گرانے والی

پہلو حسن بیان شوخی تقریر میں غرق
ترکی و مصر و فلسطین کے حالات میں برق

پس گیا لوٹ گیا دل میں سکت ہی نہ رہی
سر تھے تمکین کے جس گت میں وہ گت ہی نہ رہی

ضبط کے عزم کا اس وقت اثر کچھ نہ ہوا
یا حفیظ کا کیا ورد مگر کچھ نہ ہوا

عرض کی میں نےکہ " اے گلشن فطرت کی بہار
دولت و عزت و ایمان تیرے قدموں پہ نثار

تو اگر عہد وفا باندھ کے میری ہو جائے
ساری دنیا سے مرے قلب کو سیری ہو جائے "

شوق کے جوش میں میں نے جو زبان یوں کھولی
ناز و انداز سے تیوری کو چڑھا کر بولی

"غیر ممکن ہے مجھے انس مسلمانوں سے
بوۓ خون آتی ہے اس قوم کے فسانوں سے

لن ترانی کی یہ لیتے ہیں نمازی بن کر
حملے سرحدوں پہ کیا کرتے ہیں غازی بن کر

کوئی بنتا ہے جو مہدی تو بگڑ جاتے ہیں
آگ میں کودتے ہیں توپ سے لڑ جاتے ہیں

گل کھلاۓ کوئی میدان میں تو اترا جایں
پا َین سامان اقامت تو قیامت ڈھا ین

مطمئن ہو کوئی کیوں کر کہ یہ ہیں نیک نہاد
ہے ہنوز ان کی رگوں میں اثر حکم جھاد"

دشمن صبر کی نظروں میں لگاوٹ پائی
کامیابی کی دل زار نے آہٹ پائی

عرض کی میں نے کہ "ا ے لذّت جان راحت روح
اب زمانے پہ نہیں ہے اثر آدم و نوح

شجر طورکا اس باغ میں پودا ہی نہیں
گیسو ۓ حور کا اس دور میں سودا ہی نہیں

اب کہاں ذہن میں باقی ہیں برّاق و رفرف ؟
ٹکٹکی بندہ گئی ہے قوم کی انجن کی طرف

ہم میں باقی نہیں خالد جانباز کا رنگ
دل پہ غالب ہے فقط حافظ شیراز کا رنگ

یاں نہ وہ نعرہ تکبیر نہ وہ جوش سپاہ
سب کے سب آپ ہی پہ پڑھتے ہیں سبحان الله

جوہر تیغ مجاہد تیرے ابرو پہ نثار
نور ایمان کا تیرے قدموں پہ نثار

اٹھ گئی صفحہ ہستی سے بحث بد و نیک
دو دلے ہو رہیں ہیں کہتے ہیں خدا کو ایک

موج کوثر کی کہاں اب میرے باغ کے گرد
میں تو ہوں تہذیب میں پیرمغاں کا شاگرد

مجھ پہ کچھ وجہ عتاب آپ کو اے جان نہیں
نام ہی نام ہے ورنہ میں مسلمان نہیں"

جب کہا صاف یہ میں نے کہ "جو ہو صاحب فہم
تو نکالو دل نازک سے یہ شبہ یہ وہم

میرے اسلام کو ایک قصّہ ماضی سمجھو "
ہنس کے بولی "تو پھر مجھ کو بھی رازی سمجھو

0 comments: