حکیم مشرق علامہ اقبال کا تصوّف - علامہ غلام جیلانی برق کی نظر میں
حصّہ دوم
وجدان؛
انسانی حواس صرف پانچ نہیں بلکہ ان کے علاوہ بھی ایک حس موجود ہے جس سے کوہستان کی بلند و پست چوٹیوں اور تاروں کی بکھری ہوئی محفل میں رشتہ وحدت نظر آتا ہے اور کائنات میں ایک روح ، ایک قوّت ناظمہ اور مشیت قاہرہ کا احساس ہوتا ہے - اس حس کا نام ہے وجدان اور وجدان کو چمکانے کا نام تصوّف ہے جسے خدا شناسی بھی کہتے ہیں ؛
خودی مے گم ہے خدائی تلاش کر غافل
خدا کرے تجھے تیرے مقام سے آگاہ
تصوّف کوئی فلسفیانہ نظریہ حیات نہیں بلکہ نظام حیات ہے جس سے کائنات کے متعلق تصور ہی بدل جاتا ہے -
قرآن کائنات کو بیکار نہیں سمجھتا بلکہ بار بار مشاہدہ موجودات کی ہدایت کرتا ہے اور پھر مرئی حقائق سے اک غیر مرئی عالم کی طرف لے جاتا ہے -
الله ایک چراغ ہے جو کائنات میں جل رہا ہے اور اس کا تصور وہ قمقمہ ہے جو سینہ انسان میں فروزاں ہے - یہ دیا بوجھ جائے تو قلب و نظر پہ تاریکیاں مسلط ہو جاتی ہیں اور اس تاریک ماحول میں حیات بھٹکنے لگتی ہے اور بارے بارے حادثوں سے دو چار ہوتی ہے - میرے نقطۂ نگاہ سے سب سے بڑا حادثہ الله سے کٹ جانا ہے -
...
محبوببیت
سرور عالم حضورپر نور صلے الله علیھ و سلّم ہر نماز کے بعد عموماً یہ دعا مانگا کرتے تھے ، ترجمہ؛ "اے رب ! لوگوں کو میرا اور مجھے لوگوں کا محبوب بنا"
محبوبیت کا یہ مقام بڑا عظیم ہے جسے حاصل کرنے کے لئے بڑی کٹھن راہوں سے گزرنا پڑتا ہے - اور عام مشاہدہ یہ ہے کہ عبادت اور طاعت کا بھی اس مے بڑا دخل ہے - جنید و با یزید ، اویس و سلیمان ، اور دیگر ہزارہا اہل دل اس منزل تک اسی راہ سے پہنچے تھے - شوھرت اور محبوببیت میں زمین آسمان کا فرق ہے ، بے شک چنگیز و ہلاکو، ہٹلر اور نپولیون عالمگیر شوھرت کے مالک تھے لیکن وہ کسی ایل دل میں بھی اپنا مقام نہ بنا سکے اور دوسری طرف حسین و حیدر ، فاروق و صدیق اور رومی و غزالی کا نام سنتے ہی کروڑوں مسلمانان عالم کی گردنیں تعظیماً جھک جاتی ہیں -
جسم لطیف
جسم لطیف کے بارے میں ایک نہایت حیرت انگیز انکشاف یہ ہوا کہ ہر گناہ بیماری یا دکھ بن کر جسم لطیف سے لپٹ جاتا ہے اور وہاں سے یہ بیماری جسم خاکو میں منتقل ہوتی ہے ...
جب کوئی مریض حضرت مسیح علیھ السلام کے پاس جاتا تو پہلا سوال یہ ہوتا "کیا تم میرے پیغام کو تسلیم کرتے ہو؟" اور علاج کرنے کہ بعد آئندہ کیلئے پہیز بتاتے "جاؤ اور آئندہ کیلئے گناہ مت کرو! "
ایک سوال
ہم مغربی پاکستان کی کسی بستی میں چلے جاہیں وہاں بلھے شاہ، فرید، باہو، (نیز رحمان بابا و لطیف وغیرہ ) کی کافیوں کا چرچا پائیں گے - اسی طرح مولانا رومی کی مثنوی ، جامی کی یوسف زلیخا اور سادی کی گلستان صدیوں سے پڑھی جا رہی ہیں اور دوسری طرف خود ہمارے عہد میں ایسے سینکڑوں شعراء و ادباء جن کی تخلیقات سے ان کے ہمسائے تک نہ آشنا ہیں - انہیں نہ قبول عام حاصل ہے، نہ رنگ دوام - حالانکہ ان میں بعض کے کلام میں فصاحت و بلاغت کے تمام اوصاف پائے جاتے ہیں اور خیال میں بھی خاصی پرواز و ندرت ہے - بعض ایسے ادیب بھی ہیں جن کے نام سے تو سب آشنا ہیں لیکن ان کا کلام عظمت و احترام سے محروم ہے -
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس قبول عام و احترام کی کیا وجہ ہے؟ اس سوال کے کئی جواب ہو سکتے ہیں ، مثلاً ادیب کا اسلوب انوکھا تھا، شاعر کے خیالات میں پرواز تھی، موضوع کلام کا بلند تھا - و قس علی هذا - اسی سوال کا ایک جواب قرآن نے دیا ہے اور وہ یہ کہ
انّا نا شئیہ اللیل ھی اشد و طاء و ا قوم قیل... (مزمل)
اس آیت میں "ا قوم" کا لفظ تشریح چاہتا ہے - اس کا مادہ ق-و-م ہے جس سے مختلف مشتاقف تیار ہوئے - مثلا قیام ، تقوم ، اقامت ، قوام ، قیم ، قائم ، استقامہ ، وغیرہ ...ان کے مانے جدا جدا ہیں - لیکن ایک مفہوم ایسا ہے جو ان تمام میں مشترک ہے اور وہ ہے ثبات ، مضبوطی یا استحکام، تو ا قوم کے مانے ہوں گے، بہت مضبوط، پائدار، اور محکم اور آیت کا ترجمہ ہو گا
" تحقیق شب خیزی نفس کو کچلنے اور کلام کو محکم اور پائدار بنانے میں بہت ممد ہے -"
دعاۓ سحرگاہی کا نتیجہ کلام کا دوام و استحکام کیوں ہے ؟ عقل سمجھنے سے قا صر ہے لیکن انسان کا تجربہ اور مشاہدہ یہ ہے کہ ہمیشہ ایسا ہوتا رہا ہے اور غالبا سلطان باہو اور بابا بلّھے شاہ کی قبولیت کی وجہ بھی یہی تھی ، اقبال بھی اس راز سے اگاہ تھے، فرماتے ہیں ؛
عطار ہو، رومی ہو، رازی ہو، غزالی ہو،
کچھ ہاتھ نہیں آتا بے آہ سحر گاہی !
اورساتھ ہی علامہ اقبال سحر خیز بھی تھے - ٣١ اکتوبر ١٩١٦ کو اک خط میں جو مہاراجہ سر کشن سنگھ پرشاد کے نام تھا، لکھتے ہیں
"صبح چار بجے، کبھی تین بجے اٹھتا ہوں اس کے بعد نہیں سوتا، سواۓ اس کے کہ مصلّے پر اونگھ جاؤں " [اقبال نامہ ، حصّہ اول، ٤٤-٤٥ ]
اقبال نے الله سے کبھی دولت و حشمت نہیں مانگی ، بلکہ ہمیشہ شور مولانا رومی و صدق حکیم سنائی کی تمنا کی؛
عطا کن شور رومی ، سوز خرد
عطا کن صدق و اخلاص سنائی
اور بعض اشعار سے پتا چلتا ہے کہ انھے یہ دولت حاصل ہو گئی تھی؛
بیا بمجلس اقبال یک دو ساغر کش!
اگرچہ سر نتراشد قلندری داند !
یا
اگرچہ زادہ ہندم، فروغ چشم من است
ز خاک پاک بخارا و کابل و تبریز
اور اپنے کلام کے متعلق فرماتے ہیں؛
مسنج معنی من درعیار ہند و عجم
کہ اصل ایں گہر از گریہ ہاۓ نیم شب است
جاری ہے
حصّہ دوم
وجدان؛
انسانی حواس صرف پانچ نہیں بلکہ ان کے علاوہ بھی ایک حس موجود ہے جس سے کوہستان کی بلند و پست چوٹیوں اور تاروں کی بکھری ہوئی محفل میں رشتہ وحدت نظر آتا ہے اور کائنات میں ایک روح ، ایک قوّت ناظمہ اور مشیت قاہرہ کا احساس ہوتا ہے - اس حس کا نام ہے وجدان اور وجدان کو چمکانے کا نام تصوّف ہے جسے خدا شناسی بھی کہتے ہیں ؛
خودی مے گم ہے خدائی تلاش کر غافل
خدا کرے تجھے تیرے مقام سے آگاہ
تصوّف کوئی فلسفیانہ نظریہ حیات نہیں بلکہ نظام حیات ہے جس سے کائنات کے متعلق تصور ہی بدل جاتا ہے -
قرآن کائنات کو بیکار نہیں سمجھتا بلکہ بار بار مشاہدہ موجودات کی ہدایت کرتا ہے اور پھر مرئی حقائق سے اک غیر مرئی عالم کی طرف لے جاتا ہے -
الله ایک چراغ ہے جو کائنات میں جل رہا ہے اور اس کا تصور وہ قمقمہ ہے جو سینہ انسان میں فروزاں ہے - یہ دیا بوجھ جائے تو قلب و نظر پہ تاریکیاں مسلط ہو جاتی ہیں اور اس تاریک ماحول میں حیات بھٹکنے لگتی ہے اور بارے بارے حادثوں سے دو چار ہوتی ہے - میرے نقطۂ نگاہ سے سب سے بڑا حادثہ الله سے کٹ جانا ہے -
...
محبوببیت
سرور عالم حضورپر نور صلے الله علیھ و سلّم ہر نماز کے بعد عموماً یہ دعا مانگا کرتے تھے ، ترجمہ؛ "اے رب ! لوگوں کو میرا اور مجھے لوگوں کا محبوب بنا"
محبوبیت کا یہ مقام بڑا عظیم ہے جسے حاصل کرنے کے لئے بڑی کٹھن راہوں سے گزرنا پڑتا ہے - اور عام مشاہدہ یہ ہے کہ عبادت اور طاعت کا بھی اس مے بڑا دخل ہے - جنید و با یزید ، اویس و سلیمان ، اور دیگر ہزارہا اہل دل اس منزل تک اسی راہ سے پہنچے تھے - شوھرت اور محبوببیت میں زمین آسمان کا فرق ہے ، بے شک چنگیز و ہلاکو، ہٹلر اور نپولیون عالمگیر شوھرت کے مالک تھے لیکن وہ کسی ایل دل میں بھی اپنا مقام نہ بنا سکے اور دوسری طرف حسین و حیدر ، فاروق و صدیق اور رومی و غزالی کا نام سنتے ہی کروڑوں مسلمانان عالم کی گردنیں تعظیماً جھک جاتی ہیں -
جسم لطیف
جسم لطیف کے بارے میں ایک نہایت حیرت انگیز انکشاف یہ ہوا کہ ہر گناہ بیماری یا دکھ بن کر جسم لطیف سے لپٹ جاتا ہے اور وہاں سے یہ بیماری جسم خاکو میں منتقل ہوتی ہے ...
جب کوئی مریض حضرت مسیح علیھ السلام کے پاس جاتا تو پہلا سوال یہ ہوتا "کیا تم میرے پیغام کو تسلیم کرتے ہو؟" اور علاج کرنے کہ بعد آئندہ کیلئے پہیز بتاتے "جاؤ اور آئندہ کیلئے گناہ مت کرو! "
ایک سوال
ہم مغربی پاکستان کی کسی بستی میں چلے جاہیں وہاں بلھے شاہ، فرید، باہو، (نیز رحمان بابا و لطیف وغیرہ ) کی کافیوں کا چرچا پائیں گے - اسی طرح مولانا رومی کی مثنوی ، جامی کی یوسف زلیخا اور سادی کی گلستان صدیوں سے پڑھی جا رہی ہیں اور دوسری طرف خود ہمارے عہد میں ایسے سینکڑوں شعراء و ادباء جن کی تخلیقات سے ان کے ہمسائے تک نہ آشنا ہیں - انہیں نہ قبول عام حاصل ہے، نہ رنگ دوام - حالانکہ ان میں بعض کے کلام میں فصاحت و بلاغت کے تمام اوصاف پائے جاتے ہیں اور خیال میں بھی خاصی پرواز و ندرت ہے - بعض ایسے ادیب بھی ہیں جن کے نام سے تو سب آشنا ہیں لیکن ان کا کلام عظمت و احترام سے محروم ہے -
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس قبول عام و احترام کی کیا وجہ ہے؟ اس سوال کے کئی جواب ہو سکتے ہیں ، مثلاً ادیب کا اسلوب انوکھا تھا، شاعر کے خیالات میں پرواز تھی، موضوع کلام کا بلند تھا - و قس علی هذا - اسی سوال کا ایک جواب قرآن نے دیا ہے اور وہ یہ کہ
انّا نا شئیہ اللیل ھی اشد و طاء و ا قوم قیل... (مزمل)
اس آیت میں "ا قوم" کا لفظ تشریح چاہتا ہے - اس کا مادہ ق-و-م ہے جس سے مختلف مشتاقف تیار ہوئے - مثلا قیام ، تقوم ، اقامت ، قوام ، قیم ، قائم ، استقامہ ، وغیرہ ...ان کے مانے جدا جدا ہیں - لیکن ایک مفہوم ایسا ہے جو ان تمام میں مشترک ہے اور وہ ہے ثبات ، مضبوطی یا استحکام، تو ا قوم کے مانے ہوں گے، بہت مضبوط، پائدار، اور محکم اور آیت کا ترجمہ ہو گا
" تحقیق شب خیزی نفس کو کچلنے اور کلام کو محکم اور پائدار بنانے میں بہت ممد ہے -"
دعاۓ سحرگاہی کا نتیجہ کلام کا دوام و استحکام کیوں ہے ؟ عقل سمجھنے سے قا صر ہے لیکن انسان کا تجربہ اور مشاہدہ یہ ہے کہ ہمیشہ ایسا ہوتا رہا ہے اور غالبا سلطان باہو اور بابا بلّھے شاہ کی قبولیت کی وجہ بھی یہی تھی ، اقبال بھی اس راز سے اگاہ تھے، فرماتے ہیں ؛
عطار ہو، رومی ہو، رازی ہو، غزالی ہو،
کچھ ہاتھ نہیں آتا بے آہ سحر گاہی !
اورساتھ ہی علامہ اقبال سحر خیز بھی تھے - ٣١ اکتوبر ١٩١٦ کو اک خط میں جو مہاراجہ سر کشن سنگھ پرشاد کے نام تھا، لکھتے ہیں
"صبح چار بجے، کبھی تین بجے اٹھتا ہوں اس کے بعد نہیں سوتا، سواۓ اس کے کہ مصلّے پر اونگھ جاؤں " [اقبال نامہ ، حصّہ اول، ٤٤-٤٥ ]
اقبال نے الله سے کبھی دولت و حشمت نہیں مانگی ، بلکہ ہمیشہ شور مولانا رومی و صدق حکیم سنائی کی تمنا کی؛
عطا کن شور رومی ، سوز خرد
عطا کن صدق و اخلاص سنائی
اور بعض اشعار سے پتا چلتا ہے کہ انھے یہ دولت حاصل ہو گئی تھی؛
بیا بمجلس اقبال یک دو ساغر کش!
اگرچہ سر نتراشد قلندری داند !
یا
اگرچہ زادہ ہندم، فروغ چشم من است
ز خاک پاک بخارا و کابل و تبریز
اور اپنے کلام کے متعلق فرماتے ہیں؛
مسنج معنی من درعیار ہند و عجم
کہ اصل ایں گہر از گریہ ہاۓ نیم شب است
جاری ہے

